0345-5222253 [email protected] Office 202, Plaza 177, Spring North Commercial, Bahria Town Phase 7, Rawalpindi.

Login to Your Account

Skip to answers

پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا حساب

پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت کے دوران ادا کیے جانے والے ٹیکس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک اہم معاملہ ہے۔ خاص طور پر جب بات پراپرٹی کے لین دین کی ہو تو ٹیکس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔

خریدار اور بیچنے والے کے لیے ٹیکس

جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کا اطلاق خریدار اور بیچنے والے دونوں پر ہوتا ہے، لیکن ان کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں۔

بیچنے والے کے لیے ٹیکس

کیپٹل گینز ٹیکس (Capital Gains Tax): جائیداد بیچنے والے کو پراپرٹی کی خرید اور فروخت کی قیمت کے درمیان منافع پر کیپٹل گینز ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس ٹیکس کی شرح پراپرٹی کی ملکیت کی مدت پر منحصر ہوتی ہے۔

  • اگر پراپرٹی 1 سال سے کم عرصے کے لیے رکھی گئی ہو تو 10% ٹیکس۔
  • اگر پراپرٹی 1 سال سے 2 سال کے عرصے کے لیے رکھی گئی ہو تو 7.5% ٹیکس۔
  • اگر پراپرٹی 2 سال سے زائد عرصے کے لیے رکھی گئی ہو تو 5% ٹیکس۔

ود ہولڈنگ ٹیکس (Withholding Tax): پراپرٹی کی مالیت کے حساب سے ود ہولڈنگ ٹیکس بھی لاگو ہوتا ہے۔

خریدار کے لیے ٹیکس

سٹیمپ ڈیوٹی (Stamp Duty): خریدار کو پراپرٹی کی مالیت کا ایک مخصوص فیصد سٹیمپ ڈیوٹی کے طور پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ شرح صوبائی حکومتوں کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

رجسٹریشن فیس (Registration Fee): پراپرٹی کی رجسٹریشن کے لیے فیس بھی خریدار ادا کرتا ہے۔

ٹرانسفر فیس (Transfer Fee): بعض اوقات پراپرٹی کی منتقلی کے لیے ایک معمولی فیس بھی وصول کی جا سکتی ہے۔

ٹیکس دہندگان اور غیر ٹیکس دہندگان کے لیے شرحیں

ٹیکس دہندگان (Tax Filers) اور غیر ٹیکس دہندگان (Non-Tax Filers) کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر لگنے والے ٹیکس کی شرحوں میں فرق ہوتا ہے۔

ٹیکس دہندگان کے لیے

ٹیکس دہندگان کے لیے کیپٹل گینز ٹیکس کی شرحیں عام طور پر کم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، پراپرٹی کی ملکیت کے لحاظ سے شرحیں اوپر بیان کی گئی ہیں۔

غیر ٹیکس دہندگان (بشمول بیرون ملک پاکستانی) کے لیے

غیر ٹیکس دہندگان، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں جو پاکستان میں ٹیکس دہندگان نہیں ہیں، ان کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں زیادہ ہوتی ہیں۔

  • پراپرٹی کی فروخت پر: غیر ٹیکس دہندگان کے لیے کیپٹل گینز ٹیکس کی شرح 10% مقرر کی گئی ہے، جو کہ عام طور پر ٹیکس دہندگان کے لیے سب سے زیادہ شرح سے بھی زیادہ ہے۔
  • پراپرٹی کی خرید پر: خریداروں کے لیے بھی ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں زیادہ ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اگر وہ غیر ٹیکس دہندگان ہوں۔

نوٹ: یہ معلومات عام رہنمائی کے لیے ہیں اور ٹیکس قوانین میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ تازہ ترین اور درست معلومات کے لیے کسی مستند ٹیکس کنسلٹنٹ یا پراپرٹی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

1 Answers

0
Manahil Estate Helper

Latest FBR position in Pakistan as of March 10, 2026: at the time of property transfer, the buyer pays advance tax under section 236K and the seller pays advance tax under section 236C. These are the current federal rates reflected in FBR’s latest guidance and withholding tax rate card.

For the buyer, the latest tax under section 236K is: If property value is up to Rs 5 crore, filer pays 1.5% and non-filer pays 10.5%. If property value is above Rs 5 crore and up to Rs 10 crore, filer pays 2% and non-filer pays 14.5%. If property value is above Rs 10 crore, filer pays 2.5% and non-filer pays 18.5%. FBR also shows separate late-filer rates of 4.5%, 5.5% and 6.5% for these three slabs.

For the seller, the latest tax under section 236C is: If sale consideration is up to Rs 5 crore, filer pays 4.5% and non-filer pays 11.5%. If sale consideration is above Rs 5 crore and up to Rs 10 crore, filer pays 5% and non-filer pays 11.5%. If sale consideration is above Rs 10 crore, filer pays 5.5% and non-filer pays 11.5%. FBR also shows late-filer rates of 7.5%, 8.5% and 9.5%.

For overseas Pakistanis, there is an important relief. FBR says an overseas Pakistani can get filer rates under sections 236C and 236K even if he is technically a non-filer, provided he holds a NICOP or POC and is non-resident in Pakistan, meaning his stay in Pakistan during the financial year is less than 183 days. FBR’s process requires the registrar, authority or housing society to create an overseas PSID and get approval through the FBR system.

One more point: the seller may also have to pay capital gains tax separately on profit, in addition to section 236C. For property acquired on or before June 30, 2024, CGT depends on holding period and property type. For property acquired on or after July 1, 2024, FBR says the gain is generally taxed at a flat 15% for ATL filers regardless of holding period, while non-ATL individuals/AOPs are taxed under normal slab rates with a minimum 15% tax on gain.

In simple words: buyer pays 236K, seller pays 236C, and seller may also pay capital gains tax on profit. If an overseas Pakistani is eligible under FBR’s overseas rules, he can usually pay filer-rate transfer tax even if he is otherwise a non-filer.

N S W E